غیبت،چغلی،حسد اور جلن کے شر عی احکام



حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ:نبی اکرم ﷺ سے پو چھا گیا کہ:یا رسول اللہ ﷺ! غیبت کیا ہے؟آپ ﷺ نے فر مایا :تمہارا اپنے بھائی کے تعلق سے ایسی بات کہنا جو اسے پسند نہ ہو۔(غیبت ہے) کہا گیا کہ:یا رسول اللہ ﷺ ! اگر واقعی اس کے اندر وہ بات ہو جو کہا جا رہا ہے تو؟آپ ﷺنے ارشاد فر مایا کہ:اگر اس کے اندر وہ بات ہے تو تم نے اس کی غیبت کی اور اگر اس کے اندر ہے ہی نہیں تو تم نے اس پر بہتان باندھا۔[ابوداؤد،حدیث: ۴۸۷۴،مسلم،حدیث: ۲۵۸۹]
حضرت ابو سعید اور حضرت جابر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ:نبی کریم ﷺنے ارشاد فر مایا کہ:غیبت زنا سے زیادہ شدیدہے ۔صحابہ نے عر ض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ! غیبت کس طر ح زنا سے زیادہ شدیدہے ؟آپ ﷺ نے فر مایا کہ آدمی زنا کرتا ہے پھر اللہ تعالی سے توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالی اس کی توبہ قبول کرلیتا ہے اور غیبت کرنے والے کی اس وقت تک مغفرت نہ ہوگی جب تک وہ شخص اس کومعاف نہ کردے جس کی اس نے غیبت کی ہے۔[شعب الایمان ،جلد:۵؍ص:۳۰۶۔مطبوعہ دارالکتب العلمیہ البیروت]
غیبت کرنے والا ایسا ہے جیسے کہ اس نے اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھایا۔چنانچہ اللہ رب العزت ارشاد فر ماتا ہے:ائے ایمان والو! بہت زیادہ گمان کرنے سے بچو بے شک بعض گمان گناہ ہیں اور کسی کے عیبوں کو نہ تلاش کرو نہ ہی ایک دوسرے کی غیبت کرو، کیا تم میں سے کوئی شخص یہ پسند کرتا ہے کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے ۔ تم تواس سے انتہائی کراہت محسوس کرتے ہو ،اور اللہ سے ڈرتے رہو بے شک اللہ تعالی توبہ کو بہت قبول فر مانے والا اور بے حد رحم فر مانے والا ہے۔[سورہ حجرات،آیت:۱۱۔ ۱۲]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:رسول اکرم ﷺنے ارشاد فر مایا کہ: معراج کی رات میں ایک ایسی قوم کے پاس سے گزرا جن کے ناخن لوہے کے تھے اور وہ اس سے اپنے چہرے اور سینوں کو نوچ ر ہے تھے ۔میں نے کہا کہ:اے جبرئیل! یہ کون لوگ ہیں ؟کہا کہ:یہ وہ ہیں جو لوگوں کا گوشت کھایا کرتے تھے۔(یعنی غیبت کیا کرتے تھے)۔[ابو داؤد،حدیث: ۴۸۷۸]
ان حدیثوں سے ظاہر ہوا کہ غیبت گناہ کبیرہ ہے اور بڑی نا پسندیدہ چیز ہے ۔
اسی طر ح سے چغلخوری کرنا یعنی کسی کی بات کسی تک پہو نچا دینا کہ اس کی وجہ سے دو لوگوں کے در میان نفرت ہوجائے اور حسد اور جلن یعنی کسی کی کوئی چیز دیکھ کر یہ خواہش کرنا کہ اس کی وہ چیز بر باد ہو جائے ،سخت نا جائز وگناہ اور دنیا وآخرت میں بر بادی کا سبب ہے۔
چنانچہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فر مایا کہ:چغلخور جنت میں نہیں جائے گا۔[صحیح مسلم، حدیث:۱۰۵ ]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ:نبی کریم ﷺ نے ارشاد فر مایا کہ:حسد کرنے سے بچو کیو نکہ وہ نیکیوں کو ایسے کھا جاتا ہے جیسے آگ لکڑیوں کو کھا جاتی ہے[سنن ابو داود،حدیث:۴۹۰۳ ]



متعلقہ عناوین



کھانے کے آداب پینے کے آداب لباس سے متعلق احکام وآداب تیل،خوشبو اور کنگھی کے مسائل وآداب گھر سے نکلنے اور گھر میں داخل ہونے کا طریقہ انگوٹھی پہننے کے مسائل سونے چاندی کے زیورات کے احکام ومسائل لوہا،تانبا،پیتل اور دوسرے دھات کے زیورات کے احکام مہندی،کانچ کی چوڑیا ں اور سندور وغیرہ کا شرعی حکم بھئوں کے بال بنوانے،گودنا گودوانے اور مصنوعی بال لگوانے کا مسئلہ سفید بالوں کو رنگنے کے مسائل حجامت بنوانے کے مسائل وآداب ناخن کاٹنے کے آداب ومسائل پاخانہ،پیشاب کرنے کے مسائل وآداب بیمار کی عیادت کے فضائل ومسائل بچوں کی پیدائش کے بعد کے کام جھاڑ پھونک اور دعا تعویذ کے مسائل جوتے اور چپل پہننے کے مسائل وآداب چھینک اور جماہی کے مسائل وآداب ہم بستری کے مسائل وآداب پیر کے اندر کن باتوں کا ہونا ضروری ہے؟ سونے،بیٹھنے اور چلنے کے مسائل وآداب دوسرے کے گھر میں داخل ہونے کے مسائل وآداب سلام کرنے کے مسائل مصافحہ،معانقہ اور بوسہ لینے کے مسائل ہاتھ،پیر چومنا اور تعظیم کے لئے کھڑے ہونے کا مسئلہ ڈھول،تاشے،میوزک اور گانے بجانے کا شرعی حکم سانپ،گرگٹ اور چیونٹی کو مارنے کا مسئلہ منت کی تعریف اور احکام ومسائل قسم کے احکام ومسائل اللہ کے لئے دوستی اور اللہ کے لئے دشمنی کا بیان غصہ کرنے اور مارنے پیٹنے کے مسائل موت سے متعلق احکام و مسائل



دعوت قرآن